اسلام آباد،10ستمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)افغانستان کے ایک صدرارتی ترجمان شاہ حسین مرتضوی کا کہنا ہے کہ گو کہ افغانستان کی مارکیٹوں میں سب سے زیادہ پاکستانی اشیا موجود ہیں تاہم اب افغان حکومت نے متبادل راستوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔افغانستان کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں جانے والی پاکستانی مال گاڑیوں کو ملک سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے یہ اعلان پاکستان کی جانب سے افغانستان کی اشیاء خاص طور پر میوہ جات کو ہندوستان لے جانے کے لیے واہگہ بارڈر سے جانے کی اجازت نہ دینے کے ردِ عمل میں کیا ہے۔بیان کے مطابق پاکستان کے فیصلے کے بعد افغانستان کو مجبورا پاکستانی گاڑیوں کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی نہ دینے کا اعلان کرنا پڑا۔افغانستان کے صدارتی محل کے ایک ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے چمن بارڈر کو اس وقت بند کردیا جب افغانستان میں میوہ جات کی ترسیل کا وقت تھا اور اس وجہ سے افغانستان کے تاجروں کو بہت زیادہ نقصان اُٹھانا پڑا۔مرتضوی کے مطابق اس کے بدلے میں افغان صدر نے بھارت سے بات کی اور انھوں نے وہ ٹیکس کے بغیر ان کے میوہ جات کو وہاں لے جانے پر آمادگی ظاہر کی۔مرتضوی کے مطابق جب پاکستان نے افغانستان کی اشیا کو وہاں سے گزرنے نہیں دیا تو افغان حکومت نے بھی اس کی گاڑیوں کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک جانے کی اجازت نہیں دی اور اُنہیں منع کردیا۔صدارتی ترجمان کے مطابق یہ بات افغان صدر نے جمعرات کو پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی اوین جینکینس سے ملاقات میں بھی کہی۔ترجمان کے مطابق افغان حکومت نے یہ احکامات پاکستان کی سرحد پر موجود افغان حکام تک پہنچا دیے ہیں۔شاہ حسین مرتضوی کا کہنا ہے کہ گو کہ افغانستان کی مارکیٹوں میں سب سے زیادہ پاکستانی اشیا موجود ہیں تاہم اب افغان حکومت نے متبادل راستوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے اور اب افغانستان ایک لینڈ لاک کنٹری نہیں رہا۔